حدیث نمبر: 10513
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ أَوْ قَالَ: حِينَ خَرَجَ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کر رہا تھا۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا لیکن لیتا درہم، اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا لیکن وصول دینار کرتا۔ میرے دل میں اس کے متعلق شک پیدا ہوا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے یا کہا کہ جب آپ ﷺ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ٹھہریے، میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا ہوں اور درہم وصول کرتا ہوں اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا ہوں لیکن وصول دینار کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اگر اس دن کے بھاؤ کے مطابق ہو، جب تم دونوں میں جدائی نہ ہو اور تم دونوں کے درمیان کوئی چیز باقی نہ رہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10513
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه ابوداود 3354»