السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: تَمَارَى ابْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارٌ فِي الرَّجُلِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ وَلَا يَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ وَقَالَ عَمَّارٌ: كُنْتُ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى الْمَاءِ فَتَمَعَّكْتُ كَمَا تَتَمَعَّكُ يَعْنِي الدَّوَابَّ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ اغْتَسَلْتَ ".حافظ ثناء اللہ
ناجیہ بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہما نے اس شخص کے متعلق بحث و تکرار کی جو جنبی ہو گیا تھا اور اسے پانی نہیں ملا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ نماز نہیں پڑھے گا جب تک اسے پانی نہ ملے، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اونٹوں (کے باڑے) میں تھا، میں جنبی ہو گیا، میرے پاس پانی نہیں تھا، میں (مٹی میں) لوٹ پوٹ ہوا جیسے چوپایہ کرتا ہے، پھر میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے (یہ واقعہ) ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک مٹی سے تیمم کافی تھا، جب تجھے پانی مل جائے تو غسل کر لے۔“