السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ بِحَدِيثٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو سَعِيدٍ فَنَزَلَ هَذِهِ الدَّارَ فَأَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: " مَا يُحَدِّثُ هَذَا عَنْكَ؟ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: " بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي، قَالَ: فَمَا نَسِيتُ قَوْلَهُ بِأُصْبُعِهِ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَبَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی، پھر ابوسعید آئے اور اس گھر میں ٹھہرے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ ہم ان کے پاس آئے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آپ سے کیا بیان کرتا ہے؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا، (نافع کہتے ہیں:) میں ان کی وہ بات نہیں بھولا جو انہوں نے انگلی کے اشارے سے کہی تھی: رسول اللہ ﷺ نے سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے کی خرید و فروخت سے منع کیا، مگر برابر برابر، اور فرمایا: ”تم ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔“