السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارَزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ حَمْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَدْلَجُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَبَتْهُمْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يُوقِظُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ: " ارْتَحِلُوا " فَسَارَ بِنَا حَتَّى ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ فَنَزَلَ فَصَلَّى فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَلَمْ يُصَلِّ مَعَنْا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّي مَعَنْا؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، ثُمَّ صَلَّى وَعَجَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُكُوبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ لِطَلَبِ الْمَاءِ وَكُنَّا قَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: أَيْهَاتَ أَيْهَاتَ لَا مَاءَ، فَقُلْنَا: كَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى اسْتَقْبَلَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَتْنَا غَيْرَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا مُؤْتِمَةٌ فَأَمَرَ بِمَزَادَتَيْهَا فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ فَشَرِبْنَا عِطَاشًا أَرْبَعِينَ رَجُلًا حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا وَهِيَ تَكَادُ تَبِضُّ مِنَ الْمَلْأِ، ثُمَّ، قَالَ: " لَنَا هَاتُوا مَا عِنْدَكُمْ " فَجَعَلْنَا لَهَا مِنَ الْكِسَرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى صَرَّ لَهَا صُرَّةً فَقَالَ ⦗٣٣٧⦘ لَهَا: " اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكَ وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَزْرَأْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا " فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا، قَالَتْ: لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ نَبِيٌّ كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللهُ ذَلِكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ سَلْمِ بْنِ زُرَيْرٍ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب صبح ہونے کے قریب تھی تو رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ ڈالا۔ تمام لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج بلند ہونے لگا، سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھ کھلی اور رسول اللہ ﷺ کو کوئی بیدار نہ کرتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ خود جاگتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے تو وہ نبی ﷺ کے سر کے قریب بیٹھ کر اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، نبی ﷺ کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سورج چمک رہا ہے تو فرمایا: ”یہاں سے کوچ کرو۔“ صحابہ کرام نے وہاں سے کوچ کیا یہاں تک کہ سورج سفید ہو گیا تو آپ ﷺ نے پڑاؤ ڈالا اور نماز پڑھی، اسی دوران ایک شخص نے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھی تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوں، آپ ﷺ نے حکم دیا: ”تم تیمم کر کے نماز پڑھو۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند شہسواروں کے ساتھ پانی ڈھونڈنے کے لیے بھیجا، اس حال میں کہ ہم شدید پیاسے تھے۔ ابھی ہم پانی کی تلاش میں تھے کہ ایک عورت پر نظر پڑی، جس کے سر پر دو مشکیزے تھے۔ ہم نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: اوہ یہاں پانی کہاں سے آیا۔ ہم نے کہا: تمہارے علاقے اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ تو اس نے کہا: ایک دن اور ایک رات۔ صحابہ نے کہا: تو ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چل۔ اس نے کہا: کیا رسول اللہ کے پاس؟ ہم نے اس سے کچھ گفتگو نہ کی اور اسے آپ ﷺ کے پاس لے آئے، اس نے پھر وہی بات نبی ﷺ کے سامنے دہرائی اور یہ بھی کہا کہ لوگ میرے انتظار میں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے دونوں مشکیزوں کو اتروایا اور ان کا منہ کھول کر اس میں لعاب ڈالا تو ہم چالیس پیاسے لوگوں نے اس قدر پیا کہ ہم سیر ہو گئے اور تمام برتن بھر لیے اور اس جنبی کو بھی غسل کروا دیا، لیکن ہم نے کسی بھی جانور کو پانی نہ پلایا اور مشکیزے پانی کی کثرت کی وجہ سے چھلکنے لگے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں کہا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ! “ تو ہم نے روٹی کے ٹکڑے اور کھجور جمع کر کے ایک تھیلے میں آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے کہا: ”یہ لے جاؤ اور اہل خانہ کو کھلاؤ۔“