السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10445
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ النُّبُوَّةِ مِنْ أَعْرَابِيٍّ بَعِيرًا أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ: عَمْرَكَ اللهَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِيَارَ بَعْدَ الْبَيْعِ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نبوت سے پہلے ایک دیہاتی سے اونٹ یا کوئی اور چیز خریدی، جب بیع ثابت ہو گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے“، اعرابی نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ”اللہ آپ کی عمر دراز کرے، آپ کون ہیں؟“ اس نے کہا: جب اسلام آیا تو نبی ﷺ نے اختیار بیع کے بعد رکھا۔