السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10442
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: اشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْرَابِيٍّ، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حِمْلَ خَبَطٍ فَلَمَّا وَجَبَ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ " فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ: إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ بَيْعًا خَيْرًا وَأَفْقَهَ مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: " مِنْ قُرَيْشٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دیہاتی سے کچھ خریدا، (میرا گمان ہے کہ وہ ابوزبیر تھے،) اس نے کہا وہ بنو عامر بن صعصعہ سے تھا اس نے پتے خریدے، جب بیع ثابت ہوگئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اختیار ہے۔“ دیہاتی نے کہا: میں نے کبھی ایسا خریدار نہیں دیکھا جو آپ سے زیادہ سمجھدار بھی ہو۔ آپ کس قبیلہ سے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریش سے۔“