السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10440
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى اللَّخْمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى بَيْعًا فَوَجَبَ لَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ، فَإِنْ فَارَقَهُ فَلَا خِيَارَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے کوئی سامان خریدا اس کے لیے ثابت ہوگیا، جب تک اس کا ساتھی الگ نہ ہو اس کو اختیار ہے، اگر چاہے تو لے لے، اگر جدا ہوگیا تو پھر کوئی اختیار نہیں۔“