السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من قال يجوز بيع العين الغائبة باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ غائب چیز (جو سامنے موجود نہ ہو) کی بیع جائز ہے۔
حدیث نمبر: 10427
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْحَافِظُ: عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يُقَالُ لَهُ الْكُرْدِيُّ يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَهَذَا بَاطِلٌ لَا يَصِحُّ لَمْ يَرْوِهَا غَيْرُهُ، وَإِنَّمَا يَرْوِي، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ مِنْ قَوْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حافظ ابوالحسن (دارقطنی) فرماتے ہیں: عمر بن ابراہیم جسے کردی کہا جاتا ہے، حدیثیں گھڑتا تھا اور یہ روایت باطل ہے، صحیح نہیں، اس کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا، یہ تو ابن سیرین سے ان کے اپنے قول کے طور پر مروی ہے۔