السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من قال يجوز بيع العين الغائبة باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ غائب چیز (جو سامنے موجود نہ ہو) کی بیع جائز ہے۔
حدیث نمبر: 10425
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ " هَذَا مُرْسَلٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعِيفٌ، قَالَهُ لِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ الْحَافِظِ رَحِمَهُ اللهُ، ⦗٤٤٠⦘ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ.حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بن دیکھے کوئی چیز خریدی تو اسے اختیار ہے جب دیکھے، چاہے تو لے لے چاہے چھوڑ دے۔“
یہ روایت مرسل ہے اور ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں، یہ بات مجھے ابوبکر بن حارث وغیرہ نے حافظ ابوالحسن علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ سے بیان کی ہے۔ یہ روایت ایک اور سند سے بھی نبی ﷺ سے مروی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں۔