السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من قال لا يجوز بيع العين الغائبة باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ غائب چیز (جو سامنے موجود نہ ہو) کی بیع جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10422
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أنا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّي ⦗٤٣٩⦘ الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آدمی مجھ سے سامان طلب کرتا ہے یعنی بیع اور سامان میرے پاس نہیں، کیا میں اس کو فروخت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو فروخت نہ کر جو تیرے پاس نہ ہو۔“