السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من قال لا يجوز بيع العين الغائبة باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ غائب چیز (جو سامنے موجود نہ ہو) کی بیع جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10419
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ، وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحٌ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرض جائز نہیں اور ایک بیع میں دو شرطیں درست نہیں اور اس چیز کا نفع لینا بھی درست نہیں جس کی ضمانت نہ لی گئی ہو اور اس چیز کو فروخت کرنا بھی جائز نہیں جو پاس موجود نہ ہو۔“