السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: كراهية اليمين في البيع باب: خرید و فروخت میں قسم کھانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10413
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح قَالَ: وَأنا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ فِي السُّوقِ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ سُوقَكُمْ هَذِهِ يُخَالِطُهَا الْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ، أَوْ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ " وَلَفْظُ سُفْيَانَ قَرِيبٌ مِنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بازاروں میں خرید و فروخت کرتے تھے اور اپنا نام دلال رکھتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ تجار! تمہارے ان بازاروں میں قسم کا رواج ہے، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو یا کسی چیز کے صدقہ کے ذریعے۔“