السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: طلب الحلال واجتناب الشبهات باب: رزقِ حلال طلب کرنے اور مشتبہ امور سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ لَهُ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللهِ وَمَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حلال و حرام واضح ہیں، ان کے درمیان امورِ مشتبہ ہیں، جس نے مشتبہ کام کو چھوڑ دیا اس وجہ سے کہ دوسرا اس کے لیے واضح تھا اور جس نے مشتبہ کام کرنے کی جسارت کی، ممکن ہے کہ وہ ان کاموں کو بھی کرے جو اس کے لیے واضح نہیں ہیں اور گناہ اللہ کی چراگاہ ہیں اور جو کوئی چراگاہ کے اردگرد اپنے مویشی چراتا ہے، ممکن ہے کہ وہ چراگاہ میں داخل ہو جائیں۔“