السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التلقي باب: مسافروں کا استقبال کرنے کے لیے آگے جانے (تلقی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10374
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ "، قَالَ: " فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو آپ ﷺ کے اہل بیت کے بچے آپ ﷺ کا استقبال کرتے اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو مجھے لے جایا جاتا، آپ ﷺ مجھے اپنے سامنے بٹھا لیتے، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دو بیٹوں میں سے کسی ایک کو لایا جاتا تو آپ ﷺ اس کو اپنے پیچھے سوار کر لیتے؛ پھر فرماتے کہ ہم مدینہ میں داخل ہوئے کہ ایک چوپائے پر تین سوار تھے۔