السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاعتقاب في السفر باب: سفر میں باری باری سواری کرنے (اعتقاب) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10357
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ اثْنَيْنِ عَلَى بَعِيرٍ وَثَلَاثَةً عَلَى بَعِيرٍ وَكَانَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ، وَأَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَانَتْ إِذَا حَانَتْ عَقَبَتُهُمَا قَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ ارْكَبْ نَمْشِ عَنْكَ، قَالَ: " إِنَّكُمَا لَسْتُمَا بِأَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ مِنِّي، وَلَا أَرْغَبُ عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بدر کے دن ایک اونٹ پر دو یا تین سوار تھے اور نبی ﷺ کے دو ساتھی سیدنا علی اور سیدنا ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہما تھے۔ جب ان دونوں کی باری ہوتی تو دونوں عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیں، ہم چلتے ہیں، تو آپ ﷺ فرماتے: ”تم دونوں چلنے میں مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور نہ میں اجر سے بے رغبت ہوں“۔