حدیث نمبر: 10347
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَحِبَكَ؟ " قَالَ: مَا صَحِبْتُ أَحَدًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ " قَالَ ابْنُ حَرْمَلَةَ: وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَهِمَّ بِالْوَاحِدِ، وَيَهِمُّ بِالِاثْنَيْنِ فَإِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً لَمْ يَهِمَّ بِهِمْ "، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ إِنَّمَا ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا كُلَّهُ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر سے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا ساتھی کون تھا؟“ اس نے کہا: میں نے کسی کے ساتھ سفر نہیں کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اکیلا سوار شیطان ہے اور دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین قافلہ ہیں۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان اکیلے آدمی کو پریشان کرتا ہے اور دو کو بھی پریشان رکھتا ہے لیکن جب وہ تین ہوتے ہیں تو ان کو پریشان نہیں کرتا۔“ لیکن مالک رحمہ اللہ نے حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ایک آدمی سفر سے آیا، صرف نبی ﷺ کا یہ مکمل قول ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10347
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابوداود 2607»