السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية السير في أول الليل باب: رات کے ابتدائی حصے میں سفر کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانِ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے جانوروں اور بچوں کو غروبِ شمس کے وقت نہ چھوڑو جب تک شام کا اندھیرا ختم نہ ہو جائے، کیونکہ شیطان غروبِ شمس کے وقت چھوڑے جاتے ہیں یہاں تک کہ عشاء کا اندھیرا ختم ہو جائے۔“