السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يقول إذا رأى قرية يريد دخولها باب: جب مسافر کسی ایسی بستی کو دیکھے جس میں وہ داخل ہونا چاہتا ہو تو کیا پڑھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ كَعْبًا، حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلَّا قَالَ حِينَ يَرَاهَا: " اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا " ذِكْرُ أَبِيهِ سَقَطَ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي زَكَرِيَّا، وَأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْحَافِظِ وَهُوَ فِيهِ فَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ كَذَلِكَ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُغِيثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ صُهَيْبٍ، وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ، عَنْ أَبِي مَرْوَانَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب اس بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو فرماتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے رب اور ان چیزوں کے رب جن پر انہوں نے سایہ کیا ہے، اور ساتوں زمینوں کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھایا ہے، اور شیطانوں کے رب اور ان چیزوں کے جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے، اور ہواؤں کے رب اور جو کچھ انہوں نے اڑایا ہے، میں تجھ سے اس بستی کی خیر اور اس کے رہنے والوں کی خیر کا سوال کرتا ہوں۔ اس چیز کی خیر کا سوال کرتا ہوں جو اس میں ہے اور میں اس کے شر اور اس کے رہنے والوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور ان چیزوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو اس میں ہیں۔“
(ب) ابومروان سلمی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔