السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: البداية بالوجه ثم باليدين باب: تیمم میں چہرے اور پھر دونوں ہاتھوں سے ابتدا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ يَعْنِي الْعَبْدِيَّ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَاجَةٍ لِابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى مِنَ السِّكَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَهُوَ أَتَمُّهُمَا.نافع نے بیان کیا کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب آپ رضی اللہ عنہما نے اپنی حاجت کو پورا کر لیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کی کسی گلی میں قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے نکلے، ایک شخص نے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اپنے چہرے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں تک مسح کیا اور فرمایا: ”مجھے کسی نے منع نہیں کیا تھا کہ میں تیرے سلام کا جواب دوں مگر میرا وضو نہیں تھا“ یا فرمایا: ”میں طاہر نہیں تھا۔“ نبی کریم ﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، قریب تھا کہ وہ گلی میں چھپ جاتا۔