السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب آداب السفر -- باب: الاستخارة باب: سفر کے آداب پر مشتمل جامع ابواب۔ -- باب: سفر کے لیے استخارہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللهُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الْمَوَّالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ⦗٤١٠⦘ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللهُمَّ إنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي " أَوْ قَالَ: " فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي، وَمَعَاشِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي " أَوْ قَالَ: " عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ " قَالَ: وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں دعائے استخارہ اس طرح سکھاتے تھے، جیسے قرآن کی کوئی سورت۔ آپ ﷺ فرماتے: ”تم میں سے کوئی جب کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت پڑھے، پھر کہے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ خیر کا سوال کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ طاقت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں؛ کیوں کہ تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں بہتر ہے (یا فرمایا: میری دنیا اور آخرت کے معاملہ میں) تو اسے میری قسمت میں کر دے، اسے میرے لیے آسان کر دے اور پھر میرے لیے اس میں برکت دے۔ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں برا ہے (یا میری دنیا و آخرت کے معاملہ میں) تو مجھے اس سے ہٹا دے اور اسے مجھ سے دور کر دے اور میری قسمت میں بھلائی کر جہاں بھی، مجھے اس پر راضی کر دے۔“