السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يبدل ما أوجبه من الهدايا بكلامه بخير، ولا شر منه باب: زبانی طور پر واجب کی گئی ہدی (قربانی کے جانور) کو کسی بہتر یا کم تر جانور سے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10244
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَجِيبًا فَأُعْطَى بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأُعْطِيتُ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ فَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا؟ أَوْ قَالَ: بَدَنَةً أَوْ قَالَ: بَدَنَةً، الشَّكُّ مِنِّي قَالَ: " لَا وَلَكِنِ انْحَرْهَا إِيَّاهَا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عمدہ قسم کا اونٹ قربانی (ہدی) کے لیے نامزد کیا، پھر انہیں اس کے تین سو دینار پیش کیے گئے، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے ایک عمدہ اونٹ قربانی کے لیے نامزد کیا تھا، مجھے اس کے تین سو دینار پیش کیے گئے ہیں، کیا میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کا اونٹ خرید لوں؟“ راوی کو شک ہے کہ «بُدْن» یا «بَدَنَة» کے لفظ بولے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اسی کو قربانی کر۔“