السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاشتراك في الهدي باب: قربانی (ہدی) میں شریک ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرِنَا فَحَضَرْنَا النَّحْرَ فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَشَرَةٌ وَالْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ " كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ وَشَهِدَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَأَخْبَرَنَا بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِاشْتَرَاكِ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً الْبَدَنَةُ عَنْ عَشَرَةٍ " وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا وَهْمًا فَقَدْ رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ وَقَالَ: الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالُوا: الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَرَجَّحَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ رِوَايَتَهُمْ لَمَّا خَرَّجَهَا دُونَ رِوَايَةِ غَيْرِهِمْ وَأَمَّا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ تَفَرَّدَ بِذِكْرِ الْبَدَنَةِ عَنْ عَشَرَةٍ فِيهِ، وَحَدِيثُ عِكْرِمَةَ يَتَفَرَّدُ بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ وَأَخْبَرَ بِاشْتِرَاكِهِمْ فِيهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَبِالْحُدَيْبِيَةِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، قربانی کا دن آگیا تو اونٹ کی قربانی میں دس اور گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہوئے۔“
(ب) اس سند سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے، لیکن ابوزبیر کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت اس سے زیادہ صحیح ہے، وہ حدیبیہ میں اور حج و عمرہ میں موجود تھے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ”نبی ﷺ نے ان کو اونٹ کی قربانی میں سات آدمیوں کے شریک ہونے کا حکم دیا“، لہٰذا وہی قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔
(ج) سفیان ثوری کے واسطے سے ابوزبیر سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی گئی ہے کہ ”ہم نے حدیبیہ کے دن 70 اونٹ نحر کیے، ایک اونٹ دس کی جانب سے تھا“، میں اسے وہم ہی سمجھتا ہوں، کیونکہ فریابی نے ثوری سے نقل کیا ہے کہ اونٹ سات کی جانب سے ہے۔ اسی طرح مالک بن انس، ابن جریج، زہیر بن معاویہ وغیرہ نے ابوزبیر کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ اونٹ سات کی جانب سے ہے، اور عطاء بن ابی رباح نے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی نقل کیا ہے، اور مسلم بن حجاج نے دوسروں کی روایت کے بجائے انہی کی روایت نقل کر کے اسے ترجیح دی ہے۔
(د) رہی زہری کی عروہ سے حدیث تو اس میں اونٹ دس کی جانب سے بیان کرنے میں محمد بن اسحاق بن یسار اکیلے ہیں، اور عکرمہ کی حدیث کو صرف حسین بن واقد، علباء بن احمر سے روایت کرتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان تمام سے زیادہ صحیح ہے، انہوں نے حج، عمرہ اور حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے (قربانی میں) شریک ہونے کی خبر دی ہے، لہٰذا وہی قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔