السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التيمم بالصعيد الطيب باب: پاک مٹی سے تیمم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1019
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَتَى الصَّلَاةَ فَلَمْ يَجِدْ مَاءً وَجَدَ الْأَرْضَ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدِيَّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے چار چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے: میری امت کے لیے زمین مسجد اور پاک بنا دی گئی ہے، میری امت میں سے جو شخص بھی نماز کے وقت کو پائے یا وہ پانی نہ پائے تو وہ زمین کو مسجد اور وضو کا ذریعہ سمجھے، اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں، اور میں ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ مدد کیا گیا ہوں جو میرے سامنے چلتا ہے، اور میری امت کے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں۔“