حدیث نمبر: 1017
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْفَقِيهُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ، وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَّ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا "..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ کو پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، میری مدد ایک ماہ کی مسافت سے کی گئی ہے اور میرے لیے (تمام) زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ہے، میری امت سے جس آدمی کو بھی نماز کا وقت ملے تو وہ پڑھ لے اور غنیمتیں میرے لیے حلال کی گئی ہیں جب کہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں اور مجھ کو شفاعت (کرنے کی اجازت) دی گئی ہے اور نبی کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔“ (ب) صحیح مسلم میں یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ سے حدیث منقول ہے: ”اور میرے لیے زمین پاک، صاف اور مسجد بنا دی گئی ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1017
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 328»