حدیث نمبر: 10167
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ بَدَنَةٍ جَعَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَلَيْهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: " الْبُدْنُ مِنَ الْإِبِلِ وَمَحِلُّ الْبُدْنِ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ سَمَّتْ مَكَانًا مِنَ الْأَرْضِ فَلْتَنْحَرْهَا حَيْثُ سَمَّتْ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَدَنَةً فَبَقَرَةٌ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَقَرَةً فَعَشْرٌ مِنَ الْغَنَمِ " قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدٌ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بَقَرَةٌ فَسَبْعٌ مِنَ الْغَنَمِ "، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ. قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے، جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ آئے تو قربانیوں کو قلادہ پہنایا، شعار کیا اور احرام باندھا۔
«قِلَادَہ»: یہ قربانی کی علامت ہے جو بیت اللہ کے لیے متعین کی جائے۔
«شِعَار»: اونٹ کی کوہان کے دائیں جانب سے خون نکال کر اس کے اوپر مل دینا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10167
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3926»