حدیث نمبر: 10083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، أنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْوُحَاظِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

شیبان قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا﴾ [سورة الفتح: 2] ”اللہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپنا احسان تجھ پر مکمل کر لے اور تجھے دین کے سیدھے راستے پر جمائے رکھے۔“
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم غم و پریشانی میں تھے، کیوں کہ ان کے اور مناسک کے درمیان رکاوٹ حائل ہو گئی اور انہوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کی تھیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔“ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ کو مبارک ہو۔ اللہ نے بیان کر دیا جو اپنے نبی اور ہمارے ساتھ کرے گا؟ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [سورة الفتح: 5] ”تاکہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو جنت میں داخل کرے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10083
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1786»