حدیث نمبر: 10
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَسْلَعِ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ أُرَحِّلُ نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِلَةَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُرَحِّلَ نَاقَتَهُ وَأَنَا جُنُبٌ، وَخَشِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ وَضَعْتُ أَحْجَارًا، فَأَسْخَنْتُ فِيهَا مَاءً، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ لَحِقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا أَسْلَعُ مَا لِي أَرَى رَاحِلَتَكَ تَضْطَرِبُ؟ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أُرَحِّلْهَا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: قُلْتُ فَأَسْخَنْتُ مَاءً، فَاغْتَسَلْتُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کو سفر کے لیے تیار کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایک سرد رات میں مجھے احتلام ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ نے سفر کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے یہ ناپسند سمجھا کہ جنبی ہونے کی حالت میں آپ کی سواری تیار کروں۔ میں ڈر گیا کہ اگر میں نے ٹھنڈے پانی کے ساتھ وضو کیا تو مر جاؤں گا۔ میں نے پتھر رکھے، ان پر پانی گرم کیا، پھر غسل کیا، پھر رسول اللہ ﷺ سے ملا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسلع! میں تیری سواری کو مضطرب دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو تیار نہیں کیا۔“ پھر مکمل بات ذکر کی اور عرض کیا: ”پھر میں نے گرم پانی سے غسل کیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 10
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا۔ أخرجه الطبراني في الكبير 877»