کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: قریشی سرداروں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منصوبہ، لیکن ناکامی
حدیث نمبر: 3202
- " شاهت الوجوه [شاهت الوجوه] ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قریشیوں کے اشراف لوگ حطیم میں جمع ہوئے ، انہوں نے لات ، عزی ، نائلہ اور اساف کے نام پر باہم معاہدہ کیا کہ اگر ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، تو سب کے سب یکبارگی اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور اسے قتل کئے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : ان قریشی سرداروں نے باہم معاہدہ کیا کہ وہ جہاں بھی آپ کو دیکھیں گے ، یکبارگی حملہ کر کے آپ کو قتل کر ڈالیں گے ، ان میں سے ہر آدمی آپ کے خون میں سے اپنے حصے کا فیصلہ کر چکا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری بیٹی ! وضو کے لیے پانی لاؤ ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ان کے پاس بیت اللہ میں چلے گئے ۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے : یہ وہ ہے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ پھر انہوں نے اپنی آنکھوں کو جھکا لیا ، سروں کو پست کر لیا ، اپنی اپنی جگہ پر ٹک کر کھڑے رہے اور ان میں سے کسی نے نہ آپ کو دیکھا اور نہ آپ کی طرف لپکا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے ، ان کے پاس کھڑے ہوئے ، کنکریوں کی مٹھی بھری اور فرمایا : ” چہرے بھدے ہو گئے ۔ “ پھر وہ مٹھی ان پر پھینک دی ، جس جس آدمی کو کنکری لگی ، وہ بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل ہو گیا ۔