کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بسم اللہ کی برکت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ
حدیث نمبر: 3165
- " اللهم بارك لأهلها فيها. يعني العنز ".
حافظ محفوظ احمد
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک بدوی مہمان آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروں کے سامنے بیٹھ گئے اور اس سے سوال کرنے لگے کہ لوگ قبولیت اسلام پر کس قدر خوش ہیں ؟ نماز کا کتنا اہتمام کرتے ہیں ؟ جواباً وہ آدمی خوشکن معروضات ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بارونق اور تروتازہ نظر آنے لگا ۔ جب نصف دن گزر گیا اور کھانے کا وقت ہو گیا تو چپکے سے مجھے بلا کر فرمایا اور کوئی کوتاہی نہیں کی : عائشہ کے پاس جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کے بارے میں بتلاؤ (تاکہ وہ کھانا بھیجیں) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میرے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے ۔ (میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا اور حقیقت حال سے آگاہ کیا ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمام بیویوں کے پاس بھیجا لیکن ہر ایک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والا عذر پیش کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ ماند پڑ گیا ۔“ بدوی نے کہا: ہم جنگل میں بسنے والے اور سختیاں جھیلنے والے ہیں ، ہم شہری نہیں ہیں ، بس ایک لپ کھجوریں کافی ہیں اور ان کے بعد پانی اور دودھ مل جائے ، اسی کو ہم فراخی و خوشحالی کہتے ہیں ۔ اتنے میں ہماری ایک بکری ، جسے ہم ”ثمر ثمر“ کہہ کر پکارتے تھے ، گزری اور وہ دوہی جا چکی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”ثمر ثمر“ کہہ کر بلایا ، وہ ممیاتی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر اس کی ٹانگ پکڑی ، بسم اللہ پڑھ کر اسے باندھا ، پھر بسم اللہ پڑھ کر اس کے ناف کو چھوا ، بکری کے تھنوں میں (از سر نو) دودھ جمع ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے برتن سمیت بلایا ، میں برتن لے کر آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر دودھ دوہا ، برتن بھر گیا ، مہمان کو پکڑایا ، اس نے خوب سیر ہو کر پیا ۔ جب اس نے برتن رکھنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور پیو ۔“ پھر اس نے برتن رکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اور پیو ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بار بار ایسے ہی فرمایا ۔ یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گیا اور جتنا چاہا پیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر دودھ دوہا اور فرمایا : ”عائشہ کو دے آؤ ۔“ انہوں نے جتنا مناسب سمجھا پیا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بسم اللہ پڑھ کر دودھ دوہنا اور مجھے اپنی بیویوں کے پاس بھیجنا شروع کر دیا ، جب بھی وہ پی لیتیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ پڑھ کر دودھ دوہتے ۔ ( جب امہات المؤمنین سے فراغت ہوئی تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مہمان کو دو ۔“ میں نے اسے دیا ، اس نے بسم اللہ پڑھ کر اپنی چاہت کے مطابق پیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خود پینے کے بعد) مجھے دیا ، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہونٹ رکھے ، میں نے بھی اپنے ہونٹ بالکل وہیں رکھے اور شہد سے میٹھا کستوری سے زیادہ مہک دار مشروب پیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! اس بکری والوں کے لئے اس میں برکت فرما ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3165