حدیث نمبر: 3148
- (قالت قريش للنبيّ - صلى الله عليه وسلم -: ادع لنا ربّك أن يجْعل لنا الصّفا ذهباً ونؤمن بك! قال: وتفعلون؟ . قالوا: نعم. فدعا، فأتاه جبريل فقال: إن ربك يقرأ عليك السّلام ويقول: إن شِئت أصبح لهم (الصّفا) ذهباً، فمن كفر بعد ذلك منهم؛ عذبته عذاباً لا أعذبه أحداً من العالمين، وإن شئت فتحت لهم باب التوبة والرحمة. قال: بل باب التوبة والرحمة) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ صفا کا پہاڑ سونا بن جائے ، (اگر ایسا ہوا تو) ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(واقعی) تم ایسا کرو گے ؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا: آپ کے رب نے آپ کو سلام دیا ، نیز فرمایا : اگر آپ کی چاہت ہو تو ان کے لیے صفا پہاڑی ، سونا بن جائے گی ، لیکن (اس معجزے ) کے بعد جس نے کفر کیا ، اسے ایسا عذاب دوں گا ، جو جہانوں میں کسی کو نہیں دیا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(ٹھیک ہے ، اس معجزہ کی بجائے ) توبہ اور رحمت کا دروازہ چاہئے ۔“