حدیث نمبر: 3059
- " إن الله ليعجب إلى العبد إذا قال: لا إله إلا أنت إني قد ظلمت نفسي، فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، قال: عبدي عرف أن له ربا يغفر ويعاقب ".
حافظ محفوظ احمد
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، کا ان کی سواری پر ردیف تھا ، انہوں نے جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو کہا : «بسم الله» اور جب سواری کی پیٹھ پر اطمینان سے بیٹھ گئے تو کہا : تمام تعریف اللہ کے لیے ہے ، ( تین دفعہ ) اور اللہ سب سے بڑا ہے ، ( تین دفعہ ) اللہ پاک ہے جس نے یہ ( سواری ) ہمارے لیے مسخر کر دی ، وگرنہ ہم تو اس پر قابو پانے والے نہیں تھے ۔ پھر کہا : نہیں کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، تو پاک ہے ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ، تو میرے گناہ بخش دے ، بیشک تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے ۔ پھر ایک جانب جھکے اور ہنس پڑے ۔ میں نے پوچھا : اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، جیسے تو نے مجھ سے کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب دیا ، ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے : نہیں کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، میں نے اپنی جان پہ ظلم کیا ، تو میرے گناہ بخش دے ، بیشک تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے ۔ ( بندے کے یہ کلمات سن کر ) اللہ تعالیٰ کہتا ہے : میرے بندے نے پہچان لیا ہے کہ ایک رب ہے جو اسے بخش بھی سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے ۔“