کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مختلف دعائیں
حدیث نمبر: 3014
- " يا ولي الإسلام وأهله مسكني الإسلام حتى ألقاك عليه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : ”اے اسلام اور اہل اسلام کے پاسبان ! مجھے توفیق دے کہ اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھوں ، حتیٰ کہ تجھے جا ملوں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3014
حدیث نمبر: 3015
- " يا ولي الإسلام وأهله، ثبتني به حتى ألقاك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اسلام اور اہل اسلام کے ضامن ! میرے دل کو ثابت قدم رکھ ، حتیٰ کہ تجھ سے ملاقات ہو جائے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3015
حدیث نمبر: 3016
- " من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير بعدما يصلي الغداة عشر مرات كتب الله عز وجل له عشر حسنات ومحى عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات وكن له بعدل عتق رقبتين من ولد إسماعيل، فإن قالها حين يمسي كان له مثل ذلك وكن له حجابا من الشيطان حتى يصبح ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے بعد از نماز فجر دس دفعہ یہ کلمہ پڑھا : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد ، وهو على كل شيء قدير» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے مگر اللہ ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہت اسی کی ہے ، ساری تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ، دس برائیاں معاف کرے گا ، اس کے دس درجے بلند کرے گا اور ان کلمات کا ثواب اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا ۔ اگر شام کو بھی اسی طرح پڑھے تو یہ اجر و ثواب ملے گا ، نیز یہ کلمات صبح تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہوں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3016
حدیث نمبر: 3017
- " من قال: رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا وجبت له الجنة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے یہ کہا : میں اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ( ‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہوں ۔ تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3017
حدیث نمبر: 3018
- " من قال: اللهم إني أشهدك، وأشهد ملائكتك، وحملة عرشك، وأشهد من في السموات ومن في الأرض أنك أنت الله، لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، وأشهد أن محمدا عبدك ورسولك، من قالها مرة أعتق الله ثلثه من النار، ومن قالها مرتين أعتق الله ثلثيه من النار، ومن قالها ثلاثا أعتق الله كله من النار ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ مَلَائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَأُشْهِدُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» ”جس نے یہ دعا پڑھی : اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں ، تیرے فرشتوں اور ( ‏‏‏‏بالخصوص ) حاملین عرش کو گواہ بناتا ہوں اور آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کو گواہ بناتا ہوں کہ تو معبود ہے ، تو ہی معبود برحق ہے ، تو اکیلا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں ۔ جس نے یہ دعا ایک دفعہ پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے وجود کے تیسرے حصے کو آگ سے آزاد کر دیں گے ، جس نے دو دفعہ پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے وجود کے دو تہائی حصے کو آگ سے آزاد کر دے گا اور جس نے تین دفعہ پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے تمام وجود کو آگ سے آزاد کر دے گا۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3018
حدیث نمبر: 3019
- " من قال: أستغفر الله ... الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه ثلاثا غفرت له ذنوبه وإن كان فارا من الزحف ".
حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے تین دفعہ یہ دعا پڑھی : میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں ، جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے ، اگرچہ اس نے میدان جنگ سے فرار ہونے والے ( ‏‏‏‏کبیرہ ) گناہ کا ارتکاب کیا ہو ۔“ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود ، مولائے رسول سیدنا زید ، سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا ابوسعید خدری ، سیدنا انس بن مالک اور سیدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3019
حدیث نمبر: 3020
- (كان يقولُ في دعائِه: اللهم! إنّي أعوذ بك من جارِ السُّوء في دارِِ المُقامةِ؛ فإنَّ جارَ البادية يتحوّل) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! میں اپنی مستقل رہائش کے برے پڑوسی سے تیرے پناہ طلب کرتا ہوں ، کیونکہ خیمہ نشین کا پڑوسی تو ( ‏‏‏‏ا دھر ا‏‏‏‏دھر ) منتقل ہو جاتا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3020
حدیث نمبر: 3021
- " كان يدعو: اللهم احفظني بالإسلام قائما واحفظني بالإسلام قاعدا واحفظني بالإسلام راقدا ولا تشمت بي عدوا حاسدا، اللهم إني أسألك من كل خير خزائنه بيدك، وأعوذ بك من كل شر خزائنه بيدك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : ”اے اللہ ! کھڑے ہونے کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور بیٹھک کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور نیند کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما ۔ میری تکلیف سے میرے حاسد دشمن کو خوش نہ کرنا ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جس کے خزانے تیرے پاس ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3021
حدیث نمبر: 3022
- " كان يدعو بهؤلاء الكلمات: اللهم إني أعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الأعداء ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے تھے : ”اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں غلبہ قرض سے ، غلبہ دشمن سے اور میری مصیبت پر دشمنوں کے خوش ہونے سے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3022
حدیث نمبر: 3023
- " كان من دعائه صلى الله عليه وسلم : اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أنت أعلم به مني، إنك أنت المقدم والمؤخر، لا إله إلا أنت ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بھی کرتے تھے : ”اے اللہ ! مجھے بخش دے ، یعنی میرے آگے کئے ہوئے اور پیچھے کئے ہوئے ( ‏‏‏‏گناہوں کو ) ، اور ( ‏‏‏‏ان گناہوں کو بھی بخش دے جو ) میں نے مخفی اور اعلانیہ طور پر کئے اور ( ‏‏‏‏ان گناہوں کو ) جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ بیشک تو آگے کرنے والا ہے اور پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبود برحق مگر تو ہی ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3023
حدیث نمبر: 3024
- " كان أكثر دعائه: يا مقلب القلوب! ثبت قلبي على دينك. فقيل له في ذلك. فقال: إنه ليس آدمي إلا وقلبه بين إصبعين من أصابع الله، فمن شاء أقام ومن شاء أزاغ ".
حافظ محفوظ احمد
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : اے ام المؤمنین ! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تو کون سی دعا کثرت سے پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر یہ دعا کرتے تھے : ”اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا : ”ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے ، وہ جس کو چاہے ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ہدایت پر ) ثابت رکھے اور جس کو چاہے گمراہ کر دے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3024
حدیث نمبر: 3025
- (قل: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر. فعقد الأعرابي على يده، وقضى وتفكر ثم رجع، فتبسم النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: تفكر البائس. فجاء فقال: يا رسول الله! سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر؛ هذا لله، فما لي؟ فقال له النبي - صلى الله عليه وسلم -: يا أعرابي! إذا قلت: سبحان الله، قال الله: صدقت، وإذا قلت: الحمد لله، قال الله: صدقت، وإذا قلت: لا إله إلا الله، قال الله: صدقت، وإذا قلت: الله أكبر؛ قال الله: صدقت. وإذا قلت: اللهم! اغفر لي، قال الله: قد فعلت، وإذا قلت: اللهم! ارحمني؛ قال الله: [قد] فعلت، وإذا قلت: اللهم! ارزقني، قال الله: قد فعلت. فعقد الأعرابي على سبع في يده، ثم ولّى) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک بدو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کسی بہترین چیز کی تعلیم دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ”اس طرح کہا کرو : اللہ پاک ہے ، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ سب سے بڑا ہے ۔“ بدو نے ( ‏‏‏‏ان چار چیزوں کو ) اپنی انگلیوں پر شمار کیا اور چل دیا لیکن سوچنے کے بعد پھر واپس آ گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا ”‏‏‏‏ خستہ حال بدو سوچنے لگ گیا ہے ۔“ اس نے واپس آ کر کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ پاک ہے ، ساری تعریف اللہ کی ہے ، اللہ ہی معبود برحق ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔ یہ سارے ( ‏‏‏‏تعریفی ) کلمات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ”بدو ! جب تو «سبحان الله » کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا : «صدقت» ( ‏‏‏‏تو نے سچ کہا ) ۔ جب تو «الحمد لله» کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا : «صدقت» ، جب تو «لا اله الا الله» کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا : «صدقت» ، جب تو « اللہ اکبر» کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا : «صدقت» اور جب تو «اللهم اغفرلى» ”‏‏‏‏اے اللہ ! مجھے بخش دے“ کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا : میں نے تجھے بخش دیا ۔ جب تو «اللهم ارحمنى» ‏‏‏‏ ”اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما“ کہے گا تو اللہ تعالیٰ کہے گا : میں نے تجھ پر رحم کر دیا اور جب تو «اللهم ارزقني» ”‏‏‏‏اے اللہ ! مجھے رزق دے“، تو اللہ تعالیٰ کہے گا : میں نے تجھے رزق دینے کا فیصلہ کر دیا ۔ بدو نے اپنے ہاتھ پر یہ سات کلمات شمار کئے اور چل دیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3025
حدیث نمبر: 3026
- " قل اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني - يجمع أصابعه إلا الإبهام - فإن هؤلاء تجمع لك دنياك وآخرتك ".
حافظ محفوظ احمد
ابومالک اشجعی اپنے باپ سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب میں اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس طرح کہا کر : اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بند کیں سوائے انگوٹھے کے ۔ ( ‏‏‏‏اور فرمایا : ) ”یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا و آخرت کو جمع کر دیں گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3026
حدیث نمبر: 3027
- " اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم، اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك، وأعوذ بك من شر ما عاذ بك عبدك ونبيك، اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل، وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی : ”اے اللہ ! میں تجھ سے ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں ، وہ جلد ملنے والی ہو یا بدیر اور مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر سے ، وہ جلدی طاری ہونے والی ہو یا بدیر اور وہ میرے علم میں ہو یا نہ ہو ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں ، جس کا تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے سوال کیا اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے ، جس سے تیرے بندے اور نبی نے تیری پناہ چاہی ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول و فعل کا سوال کرتا ہوں اور میں جہنم اور قریب کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر فیصلہ ، جو تو میرے بارے میں کرے ، اسے میرے حق میں بہتر قرار دے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3027
حدیث نمبر: 3028
- (اللهم! إني أعوذ بك من العجز والكسل، والجبن والبخل، والهرم، وعذاب القبر. اللهم! آت نفسي تقواها، وزكها أنت خير من زكاها، أنت وليها ومولاها. اللهم! إني أعوذ بك من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعوة لا يستجاب لها) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں وہ بات کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں بےبسی و لاچارگی اور سستی و کاہلی سے ، بزدلی اور بخل سے اور بڑھاپے اور عذاب قبر سے ، اے اللہ ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاک کر دے ، تو بہترین ہستی ہے جو اسے پاک کر سکتی ہے ، تو ہی اس کا نگران کار اور پروردگار ہے ۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو فائدہ نہیں دیتا اور ایسے دل سے جو عاجزی و انکساری نہیں کرتا اور ایسے نفس سے جو سیر و سیراب نہیں ہوتا اور ایسی دعا سے جو قبول نہیں ہوتی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3028
حدیث نمبر: 3029
- " إن كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس يقول: (رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور مائة مرة) ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ہم شمار کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو دفعہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے : ”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رجوع فرما ، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3029
حدیث نمبر: 3030
- " اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد، من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر کہا : ”اے اللہ ! جو تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک دے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی مرتبے والے کو اس کا مرتبہ تجھ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ کرتا ہے اسے علم شریعت کی مہارت عطا کر دیتا ہے ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ کلمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منبر پر سنے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3030
حدیث نمبر: 3031
- (اللهمّ! إنِّي أعوذُ بك من البخلِ، وأعوذُ بك من الجُبنِ، وأعوذُ بك أن أردّ إلى أرذلِ العُمُر، وأعوذُ بك من فتنة الدنيا، وأعوذ بك من عذاب القبر) .
حافظ محفوظ احمد
مصعب سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پانچ چیزوں کا حکم دیتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حکم دیتے تھے : ”اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بخل سے ، تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے ، اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے ادھیڑ عمر کی طرف لوٹا دیا جائے ، تیری پناہ چاہتا ہوں دنیوی فتنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے ۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے ”دنیوی فتنے“ کے الفاظ کے بعد ”فتنہ دجال“ کا بھی ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3031
حدیث نمبر: 3032
- (كان من دعائه - صلى الله عليه وسلم -: اللهمَّ إني أعوذُ بكَ من جارِ السُّوءِ، ومن زوجٍ تشيِّبني قبلَ المشيب، ومن ولد يكونُ عليّ رَبّاً، ومن مال يكونُ عليّ عذاباً، ومن خليلٍ ماكر عينَه تراني، وقلبُه يرعاني؛ إن رأى حسنة دفنها، وإذا رأى سيّئةً أذاعها) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے ۔ ”اے اللہ ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں برے پڑوسی سے اور ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دے اور ایسی اولاد سے جو میرا آقا بن بیٹھے اور ایسے مال سے جو میرے لیے باعث عذاب بن جائے اور ایسے چالباز دوست سے جس کی آنکھیں مجھے تک رہی ہوں اور جس کا دل میرے پیچھے پڑا ہو اور میری ہر نیکی کو دباتا جائے اور ہر برائی کو نشر کرتا جائے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3032
حدیث نمبر: 3033
- " اللهم رب جبرائيل وميكائيل ورب إسرافيل أعوذ بك من حر النار وعذاب القبر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! جبرائیل و میکائیل کے رب ! اسرافیل کے رب ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ کی تپش اور قبر کے عذاب سے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3033
حدیث نمبر: 3034
- (كان يدعوُ ربَّه فيقولُ: اللهمَّ! متِّعني بسمعِي وبصري، واجعلهُمَا الوارث منِّي، وانصرني على من ظَلَمني، وخذ منهُ بثأرِي) .
حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے یہ دعا کیا کرتے تھے : ”اے اللہ ! تو مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے مستفید ہونے کا موقع عطا فرما اور تا زندگی ان کو سلامت رکھ اور مجھ پر ظلم کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا انتقام لے ۔“ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا جابر بن عبدالله ، سیدنا علی بن ابوطالب ، سیدہ عائشہ ، سیدنا سعد بن زرارہ ، سیدنا انس بن مالک ، سیدنا عبداللہ شخیر اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3034
حدیث نمبر: 3035
- " اللهم من آمن بك وشهد أني رسولك فحبب إليه لقاءك وسهل عليه قضاءك وأقلل له من الدنيا، ومن لم يؤمن بك ويشهد أني رسولك، فلا تحبب إليه لقاءك ولا تسهل عليه قضاءك وأكثر له من الدنيا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! جو شخص تجھ پر ایمان لایا اور یہ بھی گواہی دی کہ میں تیرا رسول ہوں تو تو اس کے لیے اپنی ملاقات کو محبوب بنا دے اور اس کے حق میں اپنا فیصلہ آسان کر دے اور دنیا کم کر دے ، اور جو تجھ پر ایمان نہیں لایا اور نہ یہ گواہی دی کہ میں تیرا رسول ہوں ، تو اس کے لیے اپنی ملاقات کو محبوب نہ بنا اور نہ اس کے حق میں اپنا فیصلہ آسان کر اور اس کو دنیا سے زیادہ سے زیادہ دے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3035
حدیث نمبر: 3036
- " اللهم لا سهل إلا ما جعلته سهلا وأنت تجعل الحزن إذا شئت سهلا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ ! کوئی چیز آسان نہیں ہے ، مگر جس کو تو آسان کر دے اور تو جب چاہتا ہے مشکل چیز کو بھی آسان کر دیتا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 3036