حدیث نمبر: 2961
- (إن مما تذكرون من جلال الله: التسبيح والتهليل والتحميد، ينعطفن حول العرش، لهن دوي كدوي النحل، تذكر بصاحبها، أما يحب أحدكم أن يكون له- أو لا يزال له- من يذكر به) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو تم تسبیح «سبحان الله» تھلیل «لا اله الا الله» اور تحمید «الحمد للہ» کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے جلال کا تذکرہ کرتے ہو تو یہ ( اذکار ) عرش کے اردگرد عاجزی کرتے ہیں ، شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی آواز ہوتی ہے اور یہ اپنے ( ذکر کرنے والے ) صاحب کا تذکرہ کرتے ہیں ۔ تو اب کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ تمہارا کوئی ایسا عمل ہو جو ( عرش کے پاس ) تمہاری یاد دلاتا رہے ۔“