حدیث نمبر: 2959
- " اقرأ فلان! فإنها السكينة نزلت للقرآن، أو عند القرآن ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا برا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک آدمی سورۃ الکہف کی تلاوت کر رہا تھا ، ( قریب ہی ) اس کا چوپایہ بندھا ہوا تھا ، چوپائے نے اچانک بدکنا شروع کر دیا ، اس نے دیکھا کہ ایک بدلی اسے ڈھانپنے لگی ہے ، وہ گھبرا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ۔ میں نے پوچھا : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا نام لیا تھا ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ تو اس نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ) یہ ساری بات بتائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابوفلاں ! تو پڑھتا رہتا ، یہ تو سکینت تھی جو قرآن ( کی تلاوت ) کے لیے نازل ہوئی ۔“