کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو اور اس کا توڑ۔ انبیا ء و رسل جادو سے متاثر ہو سکتے تھے
حدیث نمبر: 2943
- " كان رجل [من اليهود] يدخل على النبي صلى الله عليه وسلم ، [وكان يأمنه] ، فعقد له عقدا، فوضعه في بئر رجل من الأنصار، [فاشتكى لذلك أياما، (وفي حديث عائشة: ستة أشهر) ] ، فأتاه ملكان يعودانه، فقعد أحدهما عند رأسه، والآخر عند رجليه، فقال أحدهما: أتدري ما وجعه؟ قال: فلان الذي [كان] يدخل عليه عقد له عقدا، فألقاه في بئر فلان الأنصاري، فلو أرسل [إليه] رجلا، وأخذ [منه] العقد لوجد الماء قد اصفر. [فأتاه جبريل فنزل عليه بـ ( المعوذتين) ، وقال: إن رجلا من اليهود سحرك، والسحر في بئر فلان، قال:] فبعث رجلا (وفي طريق أخرى: فبعث عليا رضي الله عنه) [فوجد الماء قد اصفر] فأخذ العقد [فجاء بها] ، [فأمره أن يحل العقد ويقرأ آية] ، فحلها، [فجعل يقرأ ويحل] ، [فجعل كلما حل عقدة وجد لذلك خفة] فبرأ، (وفي الطريق الأخرى: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما نشط من عقال) ، وكان الرجل بعد ذلك يدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فلم يذكر له شيئا منه، ولم يعاتبه [قط حتى مات] ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اعتماد کرتے تھے ، اس نے ( ‏‏‏‏آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرنے کے لیے ) گرہیں لگائیں اور اس عمل کو ایک انصاری کے کنویں میں رکھ دیا ۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دن ( ‏‏‏‏سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مطابق چھ مہینے ) بیمار رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیما رداری کرنے کے لیے دو فرشتے آئے ، ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا ٹانگوں کے پاس بیٹھ گیا ۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا : کیا تجھے علم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تکلیف ہے ؟ اس نے جواب دیا : فلاں ( ‏‏‏‏یہودی ) ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا ، نے گرہیں لگائیں اور فلاں انصاری کے کنویں میں اپنا عمل رکھ دیا ، اگر وہ گرہیں لانے کے لیے کسی آدمی کو وہاں بھیجا جائے تو وہ کنویں کے پانی کو زرد پائے گا ۔ جبریل ‏‏‏‏علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معوذتین ( ‏‏‏‏سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) لے کر تشریف لائے اور کہا : فلاں یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور جادو کا عمل فلاں کنویں میں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی ( ‏‏‏‏ایک روایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کو بھیجا ، انہوں کے دیکھا کہ پانی زرد ہو چکا تھا ، وہ گرہیں لے کر واپس آ گئے ۔ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ایک ایک آیت پڑھ کر ایک ایک گرہ کھولتے جائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گرہ کھولی ، پھر ایک ایک آیت پڑھ کر گرہیں کھولتے گئے ، جونہی گرہ کھلتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفت محسوس کرتے تھے ، بالآخر صحت یاب ہو گئے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کھڑے ہوئے ، گویا کہ ( ‏‏‏‏رسیوں میں جکڑے ہوئے تھے ) اور رسیاں کھول کر آزاد کر دیا ہو ۔ وہی ( ‏‏‏‏یہودی جادوگر ) اس وقوعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے کسی چیز کا ذکر نہیں کیا اور نہ اسے کبھی ڈانٹ ڈپٹ کی ، یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 2943