کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سورہ آل عمران کی آیت «ان فى خلق السماوات» کی اہمیت
حدیث نمبر: 2934
- " لقد نزلت علي الليلة آيات ويل لمن قرأها ولم يتفكر فيها: (إن في خلق السموات والأرض) الآية ".
حافظ محفوظ احمد
عطا کہتے ہیں : میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، عبداللہ بن عمیر نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تعجب انگیز عمل ، جو آپ نے دیکھا ہو ، بیان کریں ۔ وہ رونے لگ گئیں اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو کھڑے ہوئے اور فرمایا : ”عائشہ ! مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو ۔“ میں نے کہا : بخدا ! میں آپ کی قربت کو پسند کرتی ہوں ، لیکن وہ چیز بھی پسند ہے جو آپ کو خوش کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، وضو کیا اور پھر نماز شروع کر دی آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی گود بھیگ گئی ، پھر روئے اور روتے رہے حتی کہ زمین تر ہو گئی ۔ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے ، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتا پایا تو کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں ، آج مجھ پر چند آیات نازل ہوئیں ، اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جس نے ان کو پڑھا لیکن غور و فکر نہ کیا ، آیات یہ ہیں : «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ . . . » (۳-آل عمران:۱۹۰) ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي / حدیث: 2934