حدیث نمبر: 2933
- (صدق الخبيثُ. يعنى: الجنيّ فى قوله: يُجيرُ الإنس من الجنِّ آيةُ (الكرسيِّ)) .
حافظ محفوظ احمد
یحییٰ بن ابوکثیر کہتے ہیں : مجھے ابن ابی نے بیان کیا کہ اس کے باپ نے اسے بتلایا کہ ان کی کھجوریں کھلیان میں اکٹھی پڑیں تھیں ، وہ ان کی دیکھ بھال کرتے تھے ، آپ نے دیکھا کہ ان میں کمی واقع ہو رہی ہے ، اس لیے پہرہ دینا شروع کر دیا ، اچانک ایک جاندار نظر آیا جو بالغ ہونے والے لڑکے کی طرح لگتا تھا ، آپ نے اسے سلام کہا ، اس نے سلام کا جواب دیا ۔ آپ نے کہا : تو کون ہے ، جن ہے یا انسان ؟ اس نے کہا : میں جن ہوں ۔ آپ نے کہا : مجھے اپنا ہاتھ پکڑاؤ ۔ اس نے اپنا ہاتھ پکڑا دیا ، وہ تو کتے کے ہاتھ اور بالوں کی طرح تھا ۔ آپ نے اس سے پوچھا : کیا جنوں کی خلقت اس طرح ہے ؟ اس نے کہا جنوں کو علم ہے کہ ان میں مجھ سے بھی زیادہ قبیح ہیں ۔ آپ نے کہا : ( کھجوریں اٹھانے پر ) تجھے کس چیز نے آمادہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : ہمیں یہ بات پہنچی کہ تجھے صدقہ کرنا پسند ہے ، اس لیے ہم نے چاہا کہ آپ کے غلے سے کچھ لے جائیں ۔ آپ نے کہا : ہم کس طرح تم سے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟ اس نے کہا : اس آیت یعنی آیۃ الکرسی کے ذریعے ۔ دوسرے دن والد صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا ماجرا سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”خبیث نے سچ کہا ۔“