حدیث نمبر: 2913
- (إنّ عبد الله بن قيس- أو الأشعري- أعطي مزماراً من مزامير آل داود) .
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک عبداللہ بن قیس یا اشعری کو داود کی سروں میں سے ایک سر دی گئی ہے ۔“
حدیث نمبر: 2914
- (تعلَّموا كتاب الله واقتنُوه، وتغنُوا به، فو الذِي نفسُ محمَّدٍ بيدهِ؟! لهُوأشدُّ تفلُّتاَ من المخاضِ من العُقُلِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ ہم مسجد میں بیٹھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، ہم پر سلام کہا ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا جواب دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اللہ کی کتاب کی تعلیم حاصل کرو ، اس کو محفوظ رکھو اور ترنم اور غنا کے ساتھ تلاوت کیا کرو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت ( سینوں سے ) جلدی نکل جانے والا ہے ۔“