کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بطور انتقام بھی فحش گوئی ممنوع ہے
حدیث نمبر: 2884
- " إن اليهود قوم حسد وإنهم لا يحسدوننا على شيء كما يحسدونا على السلام وعلى (آمين) ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ( ‏‏‏‏السلام علیکم کی بجائے ) کہا : اے محمد ! «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ( ‏‏‏‏یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا : «وعليك» ( ‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو ) ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے ، اس لیے میں خاموش رہی ۔ ایک دوسرا یہودی آیا اور کہا : «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ( ‏‏‏‏آپ پر موت اور ہلاکت پڑے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏ «وعليك» ( ‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو ) ۔ ”‏‏‏‏ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے ( ‏‏‏‏ خاموش رہی )، پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا : «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی : بندرو اور خنزیرو ! تم پر ہلاکت ہو ، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو ۔ جس انداز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں دیا ، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا ، ان ( ‏‏‏‏ یہودیوں ) نے «اَلسَّامُ عَلَيكُم» کہا اور ہم نے بھی ( ‏‏‏‏ بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك» کہہ کر ) جواب دے دیا ۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور ( ‏‏‏‏ ہماری کسی ) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2884
حدیث نمبر: 2885
- " كان ناس يأتون رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليهود، فيقولون السام عليك ! فيقول: وعليكم. ففطنت بهم عائشة فسبتهم، (وفي رواية: قالت عائشة: بل عليكم السام والذام) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مه يا عائشة! [لا تكوني فاحشة] فإن الله لا يحب الفحش ولا التفحش. قالت: فقلت: يا رسول الله إنهم يقولون كذا وكذا. فقال: أليس قد رددت عليهم؟ فأنزل الله عز وجل: * ( وإذا جاؤك حيوك بما لم يحيك به الله) * إلى آخر الآية ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : یہودی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ( ‏‏‏‏ السلام علیکم کی بجائے ) «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ( ‏‏‏‏ تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو ) کہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواباً فرماتے : «وعليك» ( ‏‏‏‏اور تم پر بھی ہو ) ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی بات سمجھ گئیں اور انہیں بر بھلا کہا ( ‏‏‏‏اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا : بلکہ تم ہلاکت اور مذمت ہو ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ ! رہنے دو ، ناپسندیدہ باتیں مت کیا کرو ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ تو آپ کو یوں یوں کہہ رہے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں نے ان کو ( ‏‏‏‏اچھے انداز میں ) جواب دے نہیں دیا ۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّـهُ» (۵۸-المجادلة:۸) ”‏‏‏‏اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا“ . . . آیت کے آخر تک ( ‏‏‏‏سورۃ المجادلہ : ۸ ) ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2885