کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: غیبت کے جواز کی صورتیں
حدیث نمبر: 2824
- " يا عائشة إن من شر الناس من تركه الناس، أو ودعه الناس اتقاء فحشه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی ، ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( ‏‏‏‏اسے دیکھ کر ) فرمانے لگے : ”یہ آدمی اپنے خاندان کا برا فرد ہے ۔“ پھر اسے اجازت دے دی اور اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا ۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پہلے تو آپ نے جو کچھ کہا وہ کہا ، پھر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ، ( ‏‏‏‏ ان دو قسم کے رویوں کی کیا وجہ ہے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عائشہ ! بدترین لوگ وہ ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے شر سے بچنے کے لیے ان سے لا تعلق ہو جائیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2824