کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بنو قریظہ کی عہد شکنی کا انجام
حدیث نمبر: 2787
- " قوموا إلى سيدكم فأنزلوه، فقال عمر: سيدنا الله عز وجل، قال: أنزلوه، فأنزلوه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں : میں غزوہ خندق والے دن نکلی اور لوگوں کے پیچھے چل پڑی ۔ میں نے چلتے ہوئے پیچھے سے قدموں کی پرزور آواز سنی ۔ جب میں نے ادھر توجہ کی ، تو کیا دیکھتی ہوں کہ سعد بن معاذ ہیں اور ان کے ساتھ ان کا بھتیجا حارث بن اوس ہے ، جس نے ڈھال اٹھا رکھی تھی ۔ میں زمین پر بیٹھ گئی ۔ سعد گزرے ، انہوں نے لوہے کی زرہ پہن رکھی تھی اور اس کے کنارے نکلے ہوئے تھے ، مجھے خطرہ لاحق ہونے لگا کہ کہیں اس سے سعد کے اعضائے جسم ( ‏‏‏‏زخمی نہ ہو جائیں ) ۔ وہ گزرتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ”ذرا ٹہیرو کہ لڑائی زوروں پر آ جائے کتنی اچھی ہو گی موت ، جب اس کا مقررہ وقت آ جائے گا ۔“ وہ کہتی ہیں : میں کھڑی ہوئی اور ایک باغ میں گھس گئی ، وہاں ( ‏‏‏‏پہلے سے ) چند مسلمان موجود تھے ، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ایک اور آدمی بھی تھا ، اس نے خود پہنا ہوا تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا : آپ یہاں کیوں آئی ہیں ؟ بخدا ! آپ نے تو بڑی جرأت کی ہے ۔ آپ کو اس سے کیا اطمینان کہ آپ پر کوئی بلا آ پڑے یا کہیں بھاگنا پڑ جائے ۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھے ملامت کرتے رہے ، حتیٰ کہ مجھے یہ خواہش ہونے لگی کہ اسی وقت زمین پھٹے اور میں اس میں گھس جاؤں ۔ ا‏‏‏‏دھر جب اس بندے نے خود اتارا ، تو معلوم ہوا کہ وہ طلحہ بن عبیداللہ تھے ۔ اس نے کہا : عمر ! آپ نے تو آج بہت باتیں کر دی ہیں ۔ آج صرف اللہ تعالیٰ کی طرف فرار اختیار کرنا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ایک قریشی مشرک ، جس کو ابن عرقہ کہتے تھے ، نے سعد کو تیر مارا اور کہا : لو ، میں تو ابن عرقہ ہوں ۔ وہ تیر ان کے بازو کی رگ میں لگا اور وہ کٹ گئی ۔ سعد نے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی : اے اللّٰہ ! مجھے ( ‏‏‏‏اس وقت تک ) موت سے بچانا ، جب تک بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب نہ ہو جائے ۔ وہ جاہلیت میں سعد کے موالی کے حلیف تھے ۔ پس ان کے زخم ( ‏‏‏‏سے بہنے والا خون ) رک گیا ۔ ا‏‏‏‏دھر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ( ‏‏‏‏تند و تیز ) ہوا بھیجی اور اس لڑائی میں مومنوں کے لیے کافی ہوا ، اور اللہ تعالیٰ طاقتور اور غالب ہے ۔ ابوسفیان اپنے ساتھیوں سمیت تہامہ میں پہنچ گیا اور عینیہ بن بدر نے اپنے ساتھیوں سمیت نجد میں پناہ لی ۔ بنو قریظہ ( ‏‏‏‏ کے یہودی ) واپس آ گئے اور قلعہ بند ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں لوٹ آئے ، اسلحہ اتارا اور سعد کے لیے مسجد میں چمڑے کا ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا ۔ لیکن اسی اثنا میں جبرائیل علیہ السلام پہنچ گئے ، ان کے دانتوں پر غبار چمک رہا تھا ۔ انہوں نے کہا : ( ‏‏‏‏ اے محمد ! ) آپ نے اسلحہ اتار دیا تھا ؟ اللہ کی قسم ! فرشتوں نے تو ابھی تک نہیں اتارا ۔ چلیے بنو قریظہ کی طرف اور ان سے قتال کیجئیے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی خاطر اسلحہ زیب تن کیا اور لوگوں میں کوچ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل پڑے اور بنو غنم ، جو مسجد کے قریب سکونت پذیر تھے ، کے پاس سے گزرے اور ان سے پوچھا : ”کون تمہارے پاس سے گزرا ہے ؟“ انہوں نے کہا : دحیہ کلبی گزرے ہیں ، دراصل سیدنا دحیہ کلبی کی داڑھی ، دانت اور چہرہ جبرائیل علیہ السلام کے مشابہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے پاس پہنچے اور ان کا محاصرہ کر لیا ، جو پچیس دن تک جاری رہا ۔ جب ان پر محاصرے نے شدت اختیار کی اور ان کی تکلیف بڑھ گئی ، تو ان سے کہا گیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی ہو جاؤ ۔ انہوں نے ابولبابہ بن عبد المنذر سے مشورہ کیا ، اس نے اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ تو قتل ہی ہو گا ۔ انہوں نے کہا : تو پھر سعد بن معاذ کے فیصلے کو قابل تسلیم سمجھ لیتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سعد بن معاذ کے فیصلے پر راضی ہو جاؤ ۔“ پس انہوں نے تسلیم کر لیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلا بھیجا ۔ سو ایک گدھا لایا گیا ، اس پر کھجور کے درخت کے چھال کی پالان تھی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر سوار کر دیا گیا ، ان کی قوم نے ان کو گھیر لیا اور کہا : اے ابو عمرو ! وہ ( ‏‏‏‏بنو قریظہ والے ) آپ کے حلیف بھی ہیں ، معاہد بھی ہیں ، شکست و ریخت والے بھی ہیں اور تم جانتے ہو کہ وہ ایسے ایسے بھی ہیں ۔ لیکن انہوں نے نہ ان کا جواب دیا اور نہ ان کی طرف توجہ کی ، ( ‏‏‏‏چلتے گئے ) ، جب ان کے گھروں کے قریب جا پہنچے تو اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اب وہ وقت آ گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں ۔ ابوسعید کہتے ہیں : جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”( ‏‏‏‏اٹھو ) اپنے سردار کی طرف جاؤ اور ان کو ( ‏‏‏‏سواری سے ) اتارو ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمارا سردار تو اللہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان کو اتارو ۔“ پس انہوں نے ان کو اتارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سعد ! ان کے بارے میں فیصلہ کرو ۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے ، ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے مالوں کو ( ‏‏‏‏مسلمانوں میں ) تقسیم کر دیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو نے تو وہی فیصلہ کیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا فیصلہ تھا ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اگر تو نے ابھی تک اپنے نبی کی قسمت میں قریشیوں سے لڑنا رکھا ہوا ہے ، تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھ اور اگر ان کے مابیں جنگ و جدل ختم ہو گیا ہے ، تو مجھے اپنے پاس بلا لے ۔ وہ کہتی ہیں : ان کا زخم پھوٹ پڑا ، حالانکہ وہ مندمل ہو چکا تھا اور وہاں انگوٹھی کی طرح کا نشان نظر آتا تھا اور وہ اس خیمہ میں واپس چلے گئے ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے نصب کروایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما وہاں پہنچ گئے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد ‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، میں اپنے حجرے میں بیٹھی ہوئی عمر اور ابوبکر رضی اللہ عنہما کے رونے کی آواز پہچان رہی تھی ، وہ ( ‏‏‏‏صحابہ کرام ) آپس میں ایسے ہی تھے ، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ”وہ آپس میں رحمدل ہیں“ ۔ علقمہ نے پوچھا : امی جان ! اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا تھا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : کسی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نہیں بہتے تھے ، لیکن جب وہ غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2787