حدیث نمبر: 2783
- (خرجَ رجلٌ من (خيبرَ) ، فاتبَعه رجلان، وآخرُ يتلوهما يقول: ارجعا ارجعا، حتَّى ردَّهما، ثم لحق الأول، فقال: إنَّ هذينِ شيطانانِ، وإنِّي لمْ أزلْ بهما حتى رددتهما، فإذا أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فأَقرئه السلامَ، وأخبره أنَّا ههنا في جمع صدقاتنا، ولو كانت تصلحُ له لبَعَثْنَا بها إليه. قال: فلمَّا قدمَ الرجلُ المدينةَ أخبرَ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم -، فعند ذلك نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن الخَلْوةِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ایک آدمی خیبر سے نکلا دو آدمی اس کے پیچھے اور ایک ان دو کے پیچھے چل پڑا وہ ان کو کہتا تھا : لوٹ آؤ ، لوٹ آؤ ۔ ( یہاں تک کہ ) انہیں لوٹا دیا ، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے ، میں ان کے ساتھ لگا رہا ، حتیٰ کہ انہیں لوٹا دیا ۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے ۔ وہ آدمی مدینہ پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے معاملے کی خبر دی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت ( تنہائی ) سے منع کر دیا ۔
حدیث نمبر: 2784
- " لو يعلم الناس في الوحدة ما أعلم ما سار راكب بليل وحده (أبدا) ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ تنہائی ( کے کیا نقصانات ) ہیں تو رات کو کوئی مسافر اکیلا سفر پر نہ نکلے ۔“
حدیث نمبر: 2785
- " الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک مسافر شیطان ہوتا ہے ، دو مسافر بھی شیطان ہوتے ہیں ، البتہ تین مسافر ہوں تو قافلہ بنتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 2786
- " نهى عن الوحدة: أن يبيت الرجل وحده، أو يسافر وحده ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہائی ، یعنی آدمی کو اکیلا رات گزارنے اور اکیلا سفر کرنے سے منع فرمایا ۔