حدیث نمبر: 2760
- " إن اليهود قوم حسد وإنهم لا يحسدوننا على شيء كما يحسدونا على السلام وعلى (آمين) ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ( السلام علیکم کے بجائے ) کہا : اے محمد ! «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» ( یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا : ” «وعليك» ( اور تجھ پر بھی ہو ) ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے ، اس لیے میں خاموش رہی ۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا : «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» ( آپ پر موت اور ہلاکت پڑے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «وعليك» ( اور تجھ پر بھی ہو ) ۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے ( خاموش رہی ) ۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا : «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» ۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں بول اٹھی : بندرو اور خنزیرو ! تم پر ہلاکت ہو ، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو ۔ جس انداز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں دیا ، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”( عائشہ ! ) اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا ، ان ( یہودیوں نے «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» کہا اور ہم نے بھی ( بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك» ، کہہ کر ) جواب دے دیا ۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور ( ہماری کسی ) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں ۔“