حدیث نمبر: 2723
- " ألا أخبركم بخير الناس منزلة؟ قلنا: بلى، قال: رجل ممسك برأس فرسه - أو قال: فرس - في سبيل الله حتى يموت أو يقتل، قال: فأخبركم بالذي يليه؟ فقلنا: نعم يا رسول الله قال: امرؤ معتزل في شعب يقيم الصلاة، ويؤتي الزكاة ويعتزل الناس، قال: فأخبركم بشر الناس منزلة؟ قلنا: نعم يا رسول الله قال : الذي يسأل بالله العظيم، ولا يعطي به ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ”کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے ؟“ ہم نے کہا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ آدمی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کا سر تھاما ہوا ہے ، ( یعنی لڑنے کے لیے گھوڑے سمیت تیار ہے ) حتیٰ کہ وہ مر جاتا ہے یا اسے شہید کر دیا جاتا ہے ، پھر فرمایا : ”کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں یہ بتلاؤں جس کا مرتبہ اس کے بعد ہے ؟“ ہم نے کہا : جی ہاں ، اے رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ آدمی ہے جو کسی گھاٹی میں فروکش ہے اور نماز قائم کرتا ہے ، زکاۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے ۔“ پھر فرمایا : ”کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں جو مرتبے کے لحاظ سے سب سے برا ہے ؟“ ہم نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ ہے جس سے اللہ ، جو عظمتوں والا ہے ، کے نام پر سوال کیا جائے ، لیکن وہ پھر بھی نہ دے ۔“