کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر آدمی کو راضی کرنے کا ایک انداز
حدیث نمبر: 2716
- " ادفعوها إلى خالتها، فإن الخالة أم ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم مکہ سے نکلے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی ، اس نے آواز دی : میرے چچا جان ! میرے چچا جان ! میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تھماتے ہوئے کہا : اپنی چچا زاد بہن کو اپنے پاس رکھو ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں ، زید اور جعفر جھگڑا کرنے لگے ۔ میں نے کہا : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور میں اسے لے کر آیا ہوں ۔ زید نے کہا : یہ تو میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا : میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے کہا : ”تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں مجھ سے مشابہت رکھتا ہے ۔“ زید سے کہا : ”تو ہمارا بھائی اور دوست ہے ۔“ اور مجھے کہا : تو مجھ سے ہے ، میں تجھ سے ہوں ۔ اس طرح کرو کہ اس ( بچی ) کو اس کی خالہ کے حوالے کر دو ، کیونکہ خالہ بھی ماں ہی ہوتی ہے ۔“ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ میرے رضاعی بھائی ( سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ) کی بیٹی ہے ۔“