حدیث نمبر: 2682
- (كان إذا جلسَ مَجْلِساً، أو صلَّى صلاة تكلَّمَ بكلماتٍ، فسألَتهُ عائشة عن الكلماتِ؟ فقال: إن تكلّمَ بخيرٍ كان طابعاً عليهِنَّ إلى يومِ القيامةِ، وإن تكلَّمَ بغيرِ ذلكَ كان كفارةً له: سبحانكَ اللهمَّ وبحمدِكَ، لا إلهَ إلا أنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليكَ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں تشریف رکھتے یا نماز پڑھتے تو چند کلمات ( پر مشتمل دعا ) پڑھتے تھے ۔ میں نے ایک دن ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا ۔ تو جواباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر کوئی آدمی اس مجلس میں خیر و بھلائی والی بات کرے تو یہ کلمات اس کے لیے روز قیامت تک مہر ثابت ہوں گے لیکن اگر کوئی اور ( برا ) کلام کرے تو یہ کفارہ بن جائیں گے ۔ ( وہ کلمات یہ ہیں ) «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» تو پاک ہے ، اے اللہ ! اپنی تعریفوں کے ساتھ ، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں ۔“