کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: غیرمسلموں کے سلام یا بددعاؤں کا جواب کیسے دیا جائے؟
حدیث نمبر: 2664
- " إذا مررتم باليهود ... فلا تسلموا عليهم وإذا سلموا عليكم فقولوا: وعليكم ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم یہودیوں کے پاس سے گزرو تو انہیں سلام نہ کہو اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو جواب میں صرف «وعليكم» ”‏‏‏‏اور تم پر بھی ہو“ کہو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2664
حدیث نمبر: 2665
- " كان ناس يأتون رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليهود، فيقولون السام عليك ! فيقول: وعليكم. ففطنت بهم عائشة فسبتهم، (وفي رواية: قالت عائشة: بل عليكم السام والذام) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مه يا عائشة! [لا تكوني فاحشة] فإن الله لا يحب الفحش ولا التفحش. قالت: فقلت: يا رسول الله إنهم يقولون كذا وكذا. فقال: أليس قد رددت عليهم؟ فأنزل الله عز وجل: * ( وإذا جاؤك حيوك بما لم يحيك به الله) * إلى آخر الآية ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : یہودی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ( ‏‏‏‏ «السلام عليكم» کی بجائے ) «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ( ‏‏‏‏تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو ) کہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواباً فرماتے : «وعليكم» ‏‏‏‏ اور تم پر بھی ہو ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ان کی (یہودیوں کی) یہ بات سمجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہا ( ‏‏‏‏اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا : بلکہ تم پر ہلاکت اور مذمت ہو ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عائشہ رہنے دو ! ناپسندیدہ باتیں نہ کیا کرو ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے ۔“ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ تو آپ کو یوں کہہ رہے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏کیا میں نے ان کو ( ‏‏‏‏اچھے انداز میں ) جواب دے نہیں دیا ۔“ ‏‏‏‏پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» ”‏‏‏‏اور جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کہتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا“ آیت کے آخر تک ( ‏‏‏‏سورۃ المجادلہ : ۸ )
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2665
حدیث نمبر: 2666
- " رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ فقال: الخطباء من أمتك، يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم، وهم يتلون الكتاب، أفلا يعقلون؟! ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ( ‏‏‏‏السلام علیکم کی بجائے ) کہا : اے محمد ! «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ( ‏‏‏‏یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا : ” «وَ عَلَيكَ» ‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے ، اس لیے میں خاموش رہی ۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا : «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ( ‏‏‏‏آپ پر موت ہلاکت پڑے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏ «وعليك» ( ‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو ) ۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے ( ‏‏‏‏خاموش رہی ) ۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا : «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی : بندرو اور خنزیرو ! تم پر ہلاکت ہو ، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا ، ان ( ‏‏‏‏یہودیوں ) نے «اَلسَّامُ عَلَيكُم» کہا اور ہم نے بھی ( ‏‏‏‏بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك» ، کہہ کر ) جواب دے دیا ۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور ( ‏‏‏‏ہماری کسی ) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2666