کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: ملاقات کے وقت جھکنا
حدیث نمبر: 2653
- " لا، ولكن تصافحوا. يعني لا ينحني لصديقه ولا يلتزمه، ولا يقبله حين يلقاه ".
حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ۔ البتہ مصافحہ کر لیا کرو ۔“ یعنی کوئی آدمی بوقت ملاقات اپنے دوست کے لیے نہ جھکے اور نہ اس کا بوسہ لے ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اس کے لیے جھکنا چاہئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ۔“ اس نے پھر پوچھا : کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ۔“ اس نے تیسری بار پوچھا : کیا اس سے مصافحہ کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ، اگر چاہے تو ۔“ یہ سیاق حدیث امام احمد کا روایت کردہ ہے ، امام ترمذی نے بھی اسی طرح کی روایت بیان کی ہے ، البتہ ان کی روایت میں «ان شاء الله» ”‏‏‏‏اگر چاہے تو“ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2653