کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: ٹیک لگا کر کھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2588
- " آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے ، ٹیک لگا کر کھا لیا کریں ، کیونکہ اس میں آپ کے لیے زیادہ آسانی ہے ۔ ( ‏‏‏‏یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اس قدر جھکایا کہ قریب تھا کہ آپ کی پیشانی زمین کو چھونے لگتی اور فرمایا : ”میں تو بندے کی طرح کھاؤں گا اور بندے کی طرح ہی بیٹھوں گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2588
حدیث نمبر: 2589
- " ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط، ولا يطأ عقبه رجلان ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا اور ( ‏‏‏‏نہ یہ دیکھا گیا کہ ) دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے ہوں ( ‏‏‏‏اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آگے ہوں ) ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2589
حدیث نمبر: 2590
- (لا تأكل متَّكِئاً، ولا على غِرْبَالٍ، ولا تتخِذَنَّ مِنَ المسجدِ مُصلىً لا تصلِّي إلا فيهِ، ولا تَخَطَّ رِقابَ الناسِ يومَ الجُمُعَةِ؛ فيجعلَكَ الله لُهمْ جسراً يوم القيامة) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ٹیک لگا کر نہ کھانا ، چھانے ہوئے آنے کی روٹی نہ کھانا ، مسجد میں کوئی جگہ مقرر نہیں کرنا کہ اسی میں ہی نماز پڑھی جائے اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگنا ، وگرنہ اللہ تعالیٰ روز قیامت تجھے لوگوں کے لیے پل بنا دے گا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاداب والاستئذان / حدیث: 2590