کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: اعمال صالحہ میں بیوی کا اپنے خاوند کی اقتدا کرنا
حدیث نمبر: 1460
- (والذي نفْسِي بيده! لو طُوِّقْتِيه؛ ما بلغتِ العُشُر من عمله حتّى يرجع. يعني: زوجَها الغازي)
حافظ محفوظ احمد
سہل بن معاذ بن انس اپنے باپ سے رویت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گیا ہے اور میں اور اس کے تمام ( اچھے ) اعمال میں اس کی اقتدا کرتی تھی ، اب آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو مجھے اس کے عمل ( کے درجے ) تک پہنچا دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ” کیا تو طاقت رکھتی ہے کہ ( مسلسل ) قیام کرتی رہے اور آرام نہ کرے اور ( مسلسل ) روزے رکھتی رہے اور کسی دن افطار نہ کرے اور ( مسلسل ) اللہ کا ذکر کرتی رہے اور ( کبھی ) اس سے غفلت نہ برتے ، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے ؟ ۔ “ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تجھے ان اعمال کو انجام دینے کی طاقت مل بھی جائے تو پھر بھی تو اس کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکے گی ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الزواج ، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم / حدیث: 1460